ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / اب گجرات انتخابات میں بھی پرشانت کشور بنیں گے کانگریس کے چانکیہ؟

اب گجرات انتخابات میں بھی پرشانت کشور بنیں گے کانگریس کے چانکیہ؟

Mon, 03 Apr 2017 00:59:15    S.O. News Service

نئی دہلی:2/اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)یوپی اسمبلی انتخابات میں کراری شکست کے بعد کانگریس میں راہل گاندھی کے ساتھ ہی ایک اور نام نشانے پر آیاتھا، وہ تھا کانگریس کے انتخابی حکمت عملی ساز پرشانت کشور یعنی پی کے کا۔نتائج کے دن ہی یوپی کانگریس کے جنرل سکریٹری امیش پنڈت نے میڈیا سے کہاتھا کہ شکست کے ذمہ دار راہل کے ساتھ ساتھ ان کے حکمت عملی ساز پی کے بھی ہیں، جنہوں نے حکومت مخالف لہر جھیل رہی ایس پی کے ساتھ اتحاد کیا، چونکہ پی کے راہل کی پسند تھے، اس لیے کھل کر تو کوئی کانگریسی کچھ نہیں بول رہا تھا، لیکن یوپی میں پی کے کو ملی کھلی چھوٹ سے ریاست کے تمام بڑے لیڈروں کے ساتھ ہی پارٹی کے سینئر لیڈران بھی ناراض تھے۔دراصل ان تمام لیڈروں کا کہنا ہے کہ پی کے تشہیر میں اپنا کردار نبھاسکتے ہیں لیکن اتحاد کرنا یا نہیں کرنا، ایک سیاسی فیصلہ ہوتا ہے، جس میں پی کے کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔وہ مثال بھی دیتے ہیں کہ پنجاب میں پی کے نے تشہیر کی ذمہ داری سنبھالی، لیکن اس سب پر آخری مہر کیپٹن امریندر سنگھ کی ہی لگتی تھی، پی کے، کیپٹن اور ریاست پر حاوی نہیں تھے، وہیں یوپی میں اس کے برعکس تھا۔پی کے ہی اتحاد سے لے کر ہر فیصلے کے محرک تھے۔ان لیڈروں کا کہنا ہے کہ حد تو تب ہو گئی جب پی کے ہی اتحاد میں سیٹوں پر پھنسے ہوئے پیچ کو حل کرنے کے لیے اکھلیش سے بات کرنے گئے۔ایسے میں یوپی انتخابات کے بعد پی کے بھی یہ سوچنے کے لیے وقت لے رہے تھے کہ ان حالات میں آگے کانگریس ہائی کمان کے ساتھ کام کرنا ہے، یا نہیں۔وہیں دوسری طرف راہل بھی اپنے لیڈروں کی پی کو لے کر ناراضگی جان چکے تھے، لیکن ذرائع کی مانیں،تو دونوں طرف سے آگے بھی ساتھ کام کرنے کا من بنایا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق اب راہل پی کے کا استعمال ایک اور اہم سیاسی صوبے میں کرنے کی تیاری میں ہیں۔ ویسے اس کے پیچھے وجہ بھی ہے۔دراصل پی کے نے انتخابی حکمت عملی ساز کے طورپر اپنی اننگ کا آغاز گجرات سے ہی نریندر مودی کے ساتھ کیا تھا اور کامیابی حاصل کی تھی۔ان کے پاس گجرات کا خاصا تجربہ بھی ہے، اسی لیے راہل اس تجربہ کا فائدہ آئندہ گجرات اسمبلی انتخابات میں لینا چاہتے ہیں۔ساتھ ہی پی کے بھی گجرات میں بی جے پی کو شکست دے کر یوپی کی شکست کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔


Share: